السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من تولى متحرفا لقتال أو متحيزا إلى فئة باب: اس شخص کا بیان جو جنگی چال کے طور پر یا اپنی کسی دوسری جماعت سے ملنے کے لیے پیچھے ہٹے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِينَا الْعَدُوَّ، فَحَاصَ الْمُسْلِمُونَ حَيْصَةً، فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ، قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَا نَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ بُؤْنَا بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ، ثُمَّ قُلْنَا: نَدْخُلُهَا فَنَمْتَارُ مِنْهَا، فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُلْنَا: نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ: " بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ ". فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَدْنَا أَنْ لَا نَدْخُلَ الْمَدِينَةَ وَأَنْ نَرْكَبَ الْبَحْرَ. قَالَ: " لَا تَفْعَلُوا فَإِنِّي فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ ".سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا۔ ہماری دشمن سے ملاقات ہوئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں بھی فرار ہونے والوں میں سے تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم مدینہ میں داخل نہ ہوں گے، کیونکہ ہم تو اللہ کے غضب سے لوٹے ہیں۔ پھر ہم نے کہا کہ بکھر کر داخل ہوجائیں گے۔ ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو نبی ﷺ نماز کے لیے نکلے تھے۔ ہماری ملاقات ہوگئی، ہم نے کہا: ہم فرار ہونے والے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم پلٹ کر جانے والے ہو۔“ ہم نے کہا: مدینہ داخل ہونے سے پہلے ہم سمندری سفر کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، میں ہر مسلمان کے گروہ میں شامل ہوں۔“