❮
❯
حدیث نمبر: 18083
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِينَا الْعَدُوَّ، فَحَاصَ الْمُسْلِمُونَ حَيْصَةً، فَكُنْتُ فِيمَنْ حَاصَ، قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَا نَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ بُؤْنَا بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ، ثُمَّ قُلْنَا: نَدْخُلُهَا فَنَمْتَارُ مِنْهَا، فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَارِجٌ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقُلْنَا: نَحْنُ الْفَرَّارُونَ، فَقَالَ: " بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ ". فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَدْنَا أَنْ لَا نَدْخُلَ الْمَدِينَةَ وَأَنْ نَرْكَبَ الْبَحْرَ. قَالَ: " لَا تَفْعَلُوا فَإِنِّي فِئَةُ كُلِّ مُسْلِمٍ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا۔ ہماری دشمن سے ملاقات ہوئی تو مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے۔ میں بھی فرار ہونے والوں میں سے تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہم مدینہ میں داخل نہ ہوں گے، کیونکہ ہم تو اللہ کے غضب سے لوٹے ہیں۔ پھر ہم نے کہا کہ ہم مدینہ میں داخل ہو کر وہاں سے کھانے پینے کا سامان لے لیں گے۔ ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو نبی ﷺ نماز کے لیے نکلے تھے۔ ہماری ملاقات ہوگئی، ہم نے کہا: ہم فرار ہونے والے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم پلٹ کر جانے والے ہو۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے نبی! ہمارا ارادہ تھا کہ ہم مدینہ میں داخل نہ ہوں اور سمندری سفر اختیار کر لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، میں ہر مسلمان کا گروہ (یعنی پلٹ کر آنے کی جگہ) ہوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18083
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»