السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: السنة في الأذان لسائر الصلوات بعد دخول الوقت باب: دیگر تمام نمازوں کے لیے وقت داخل ہونے کے بعد اذان دینے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 1808
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: " لَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةٍ غَيْرِ الصُّبْحِ إِلَّا بَعْدَ وَقْتِهَا لِأَنِّي لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا حَكَى عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَذَّنَ لِصَلَاةٍ قَبْلَ وَقْتِهَا غَيْرَ الْفَجْرِ وَلَمْ نَرَ الْمُؤَذِّنِينَ عِنْدَنَا يُؤَذِّنُونَ إِلَّا بَعْدَ دُخُولِ وَقْتِهَا إِلَّا الْفَجْرَ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صبح کی اذان اس کے وقت کے بعد دی جائے۔ اس لیے کہ میں کسی کو نہیں جانتا جس نے رسول اللہ ﷺ سے روایت نقل کی ہو کہ آپ نے نمازِ فجر کے علاوہ کسی دوسری نماز کے لیے اس کے وقت سے پہلے اذان دی ہو اور ہم نے اپنے مؤذنوں کو نماز کا وقت داخل ہونے کے بعد اذان دیتے ہوئے دیکھا ہے سوائے نماز فجر کے۔