السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من يجري عليه الرق باب: اس شخص کا بیان جس پر غلامی نافذ کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: ثَلَاثٌ سَمِعْتُهُنَّ لِبَنِي تَمِيمٍ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أُبْغِضُ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَهُنَّ أَبَدًا، كَانَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَذْرٌ مُحَرَّرٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ فَسُبِيَ سَبْيٌ مِنْ بَلْعَنْبَرِ، فَلَمَّا جِيءَ بِذَلِكَ السَّبْيِ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ سَرَّكِ أَنْ تَفِي بِنَذْرِكِ فَأَعْتِقِي مُحَرَّرًا مِنْ هَؤُلَاءِ ". فَجَعَلَهُمْ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَجِيءَ بِنَعَمٍ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَآهُ رَاعَهُ حُسْنُهُ، قَالَ: فَقَالَ: هَذَا نَعَمُ قَوْمِي، فَجَعَلَهُمْ قَوْمَهُ. قَالَ: وَقَالَ: هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالًا فِي الْمَلَاحِمِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے بنو تمیم کے بارے میں تین باتیں سنیں: ”میں بنو تمیم سے اس کے بعد بغض نہ رکھوں گا۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے ذمہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنا نذر تھی، جب بنو عنبر سے قیدی بنائے گئے اور ان کو لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عائشہ! اگر تجھے اچھا لگے کہ تو اپنی نذر پوری کرے تو ان لوگوں سے غلام کو آزاد کر دے۔“ آپ ﷺ نے ان کو اسماعیل کی اولاد سے شمار فرمایا اور جب صدقہ کے اونٹ لائے گئے تو آپ ﷺ نے ان کی خوبصورتی کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ جانور میری قوم کے ہیں۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں پر لڑائیوں میں وہ سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔“