السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من يجري عليه الرق باب: اس شخص کا بیان جس پر غلامی نافذ کی جائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُنَيْنٍ، فَلَمَّا أَصَابَ مِنْ هَوَازِنَ مَا أَصَابَ مِنْ أَمْوَالِهِمْ وَسَبَايَاهُمْ، أَدْرَكَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ بِالْجِعْرَانَةِ وَقَدْ أَسْلَمُوا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَنَا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللهُ عَلَيْكَ. وَقَامَ خَطِيبُهُمْ زُهَيْرُ بْنُ صُرَدَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا فِي الْحَظَائِرِ مِنَ السَّبَايَا خَالِاتُكَ وَعَمَّاتُكَ وَحَوَاضِنُكَ اللَّاتِي كُنَّ يَكْفُلْنَكَ، وَذَكَرَ كَلَامًا وَأَبْيَاتًا. قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نِسَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ أَحَبُّ إِلَيْكُمْ أَمْ أَمْوَالُكُمْ؟ ". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَبَيْنَ أَمْوَالِنَا، أَبْنَاؤُنَا وَنِسَاؤُنَا أَحَبُّ إِلَيْنَا. فَقَالَ ⦗١٢٨⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ، وَإِذَا أَنَا صَلَّيْتُ بِالنَّاسِ فَقُومُوا وَقُولَوا: إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ وَبِالْمُسْلِمِينَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَبْنَائِنَا وَنِسَائِنَا سَأُعْطِيكُمْ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَسْأَلُ لَكُمْ. فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ الظُّهْرَ قَامُوا فَقَالُوا مَا أَمَرَهُمْ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ ". وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ: وَمَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا. فَقَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ السُّلَمِيُّ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا. فَقَالَتْ بَنُو سُلَيْمٍ: بَلْ مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو فَزَارَةَ فَلَا. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَمْسَكَ مِنْكُمْ بِحَقِّهِ فَلَهُ بِكُلِّ إِنْسَانٍ سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ فَيْءٍ نُصِيبُهُ ". فَرَدُّوا إِلَى النَّاسِ نِسَاءَهُمْ وَأَبْنَاءَهُمْ. " وَحَدِيثُ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ فِي سَبْيِ هَوَازِنَ قَدْ مَضَى.عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہمیں قبیلہ ہوازن سے مال اور لونڈیاں میسر آئیں۔ لیکن ہوازن کے لوگ جعرانہ نامی جگہ پر مسلمان ہو کر نبی ﷺ کو ملے، انھوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمارے مال اور افراد واپس کر دیں، جو پریشانی ہمیں آئی ہے آپ پر پوشیدہ بھی نہیں ہے۔ آپ ہمارے اوپر احسان کریں جیسے اللہ نے آپ پر احسان فرمایا ہے۔“ ان کے خطیب زہیر بن صرد کھڑے ہوئے، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! لونڈیوں میں آپ کی خالائیں، پھوپھیاں اور بچپن میں آپ کی پرورش کرنے والیاں بھی موجود ہیں۔“ انہوں نے لمبی کلام کی اور اشعار پڑھے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں عورتیں اور اولاد پسند ہے یا مال؟“ انھوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے ہمارے حسب و نسب اور مال میں اختیار دیا ہے، ہمیں عورتیں اور مال زیادہ محبوب ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہیں وہ سب تمہارا ہے۔ جس وقت میں لوگوں کو نماز پڑھاؤں تو وہاں کھڑے ہو کر کہہ دینا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی جانب سفارشی بناتے ہیں یا مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس سفارشی پیش کرتے ہیں اپنے بیٹوں اور عورتوں کے بارے میں۔ عنقریب میں تمہیں عطا کر دوں گا اور تمہارے لیے سفارش بھی کروں گا۔“ جب رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی تو وہ کھڑے ہوئے اور جو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا تھا کہہ دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں ہے وہ تمہارا ہے“ اور مہاجرین و انصار کہنے لگے: ”جو ہمارا ہے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کا ہے“ اور اقرع بن حابس نے کہہ دیا کہ میں اور بنو تمیم نہ دیں گے۔ اسی طرح عباس بن مرداس سلمی نے بھی کہہ دیا لیکن بنو سلیم کہنے لگے: ”ہمارا حصہ رسول اللہ ﷺ کا ہی ہے“ اور عیینہ بن بدر نے بھی انکار کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنا حق روک لیا وہ بھی ان کی عورتیں اور بچے واپس کر دیں، ہم پہلے «الْفَيْءِ» ”مالِ فئے“ سے اس کو ہر انسان کے عوض چھ اونٹ عطا کریں گے۔“