حدیث نمبر: 18012
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِي، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ⦗١٠٦⦘ وَخَالِدٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْقَيْنِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِوَادِي الْقُرَى، فَقُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي الْغَنِيمَةِ؟ قَالَ: " لِلَّهِ خُمُسُهَا وَأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ لِلْجَيْشِ ". قُلْتُ: فَمَا أَحَدٌ أَوْلَى بِهِ مِنْ أَحَدٍ؟ قَالَ: " لَا، وَلَا السَّهْمُ تَسْتَخْرِجُهُ مِنْ جَنْبِكَ لَيْسَ أَنْتَ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ بلقین کے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا، اس وقت آپ ﷺ وادیِ قریٰ میں تھے، اس نے غنیمت کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پانچواں حصہ اللہ کے لیے ہے، باقی چار حصے لشکر کے لیے ہیں۔“ اس نے کہا: کیا کسی کو کسی پر فوقیت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، حتیٰ کہ وہ تیر جس کو تم اپنے پہلو سے نکالو، اس میں بھی تم اپنے بھائی سے زیادہ حق نہیں رکھتے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18012
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»