السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيع الطعام في دار الحرب باب: دار الحرب میں کھانا فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18001
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ دُرَيْكٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " إِنَّ نَاسًا يُرِيدُونَ أَنْ يَسْتَزِلُّونِي عَنْ دِينِي وَإِنِّي وَاللهِ لَأَرْجُو أَنْ لَا أَزَالَ عَلَيْهِ حَتَّى أَمُوتَ، مَا كَانَ مِنْ شَيْءٍ بِيعَ بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَفِيهِ خُمُسُ اللهِ وَسِهَامُ الْمُسْلِمِينَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ مجھے میرے دین سے پھیرنا چاہتے ہیں اور اللہ کی قسم! میں مرنے تک اسی پر رہنے کی امید کرتا ہوں۔ کوئی بھی چیز جس کو سونے یا چاندی کے بدلے میں فروخت کیا جائے اس میں اللہ کا خمس اور مسلمانوں کا حصہ ہے۔