السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيع الطعام في دار الحرب باب: دار الحرب میں کھانا فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18000
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي أُسَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الدُّرَيْكِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مُحَيْرِيزٍ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ بِأَرْضِ الرُّومِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: " إِنَّ رِجَالًا يُرِيدُونَ أَنْ يُزِيلُونِي عَنْ دِينِي وَاللهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ حَتَّى أَلْقَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، مَنْ بَاعَ طَعَامًا أَوْ عَلَفًا بِأَرْضِ الرُّومِ مِمَّا أَصَابَ مِنْهَا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَفِيهِ خُمُسُ اللهِ، وَفَيْءُ الْمُسْلِمِينَ ".حافظ ثناء اللہ
خالد بن دریک رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے محیریز رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا روم کے علاقہ میں طعام اور جانوروں کے چارہ وغیرہ فروخت ہو سکتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ کچھ لوگ مجھے میرے دین سے پھسلانا چاہتے ہیں، یہ نہیں ہوگا حتیٰ کہ مجھے موت آ جائے اور میں محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں سے ملوں، مال غنیمت میں سے جو کوئی روم کے علاقہ میں غلے اور طعام کی خرید و فروخت کرے گا، اس میں اللہ کا خمس بھی ہے اور مسلمانوں کا مالِ فیئ بھی ہے۔