السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: بيع الطعام في دار الحرب باب: دار الحرب میں کھانا فروخت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18002
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُقْبِلِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ هَانِئِ بْنِ كُلْثُومٍ، أَنَّ صَاحِبَ جَيْشِ الشَّامِ حِينَ فُتِحَتِ الشَّامُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّا فَتَحْنَا أَرْضًا كَثِيرَةَ الطَّعَامِ وَالْعَلَفِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَقَدَّمَ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا بِأَمْرِكَ فَاكْتُبْ إِلِيَّ بِأَمْرِكَ فِي ذَلِكَ. فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَنْ دَعِ النَّاسَ يَأْكُلُونَ وَيَعْلِفُونَ، فَمَنْ بَاعَ شَيْئًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ فَفِيهِ خُمُسُ اللهِ وَسِهَامُ الْمُسْلِمِينَ ".حافظ ثناء اللہ
ہانی بن کلثوم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شام کو فتح کرنے کے بعد لشکر کے امیر نے عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا: ہم نے طعام کی کثرت اور مویشیوں کے چارے کی کثرت والے علاقے کو فتح کیا ہے۔ میں آپ کے حکم کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتا، لہٰذا آپ ہمارے لیے احکامات لکھ دیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا: لوگوں کو کھانے سے اور چارہ حاصل کرنے سے نہ روکو اور جو چیز سونے چاندی کے عوض فروخت کی جائے اس میں خمس بھی ہوگا مسلمانوں کا حصہ بھی ہوگا۔