السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الصُّوفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ح، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ وَهَذَا حَدِيثُهُ، ثنا قُتَيْبَةُ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرَ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةُ، فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْعَزْلَ؟ قَالَ: نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا كَرَائِمَ الْعَرَبِ وَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَاءِ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ، فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فَلَا نَسْأَلُهُ، فَسَأَلْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، مَا كَتَبَ اللهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ كَائِنَةٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَكُونُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ قَسَّمَ بَيْنَهُمْ غَنَائِمَهُمْ قَبْلَ الرُّجُوعِ إِلَى الْمَدِينَةِ، كَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَادَ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَظَهَرَ عَلَيْهِمْ، فَصَارَتْ بِلَادُهُمْ دَارَ الْإِسْلَامِ، وَبَعَثَ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ يَأْخُذُ صَدَقَاتِهِمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ مُجِيبًا لَهُ عَنْ ذَلِكَ: " أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ غَارُّونَ فِي نِعَمِهِمْ، فَقَتَلَهُمْ وَسَبَاهُمْ، وَقَسَمَ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فِي دَارِهِمْ سَنَةَ خَمْسٍ، وَإِنَّمَا أَسْلَمُوا بَعْدَهَا بِزَمَانٍ، وَإِنَّمَا بَعَثَ إِلَيْهِمُ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ مُصَدِّقًا سَنَةَ عَشْرٍ، وَقَدْ رَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمْ، وَدَارُهُمْ دَارُ حَرْبٍ ". قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا قَوْلُهُ: " إِنَّ ذَلِكَ كَانَ سَنَةَ خَمْسٍ فَكَذَلِكَ قَالَهُ عُرْوَةُ، وَابْنُ شِهَابٍ ".ابو صرمہ رضی اللہ عنہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ہم غزوہ بنی مصطلق میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم نے معززین عرب کو قیدی بنایا اور اپنے گھر سے دوری طویل ہو رہی تھی اور ہم چاہتے تھے کہ کچھ مال دے کر فائدہ حاصل کریں اور عزل کریں، تو ہم نے کہا: ہم عزل کریں جبکہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم ان سے سوال نہ کریں؟ ہم نے سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر کوئی حرج نہیں اگر نہ کرو، جس جان کے پیدا ہونے کا اللہ نے لکھ دیا کہ وہ پیدا ہونے والی ہے، قیامت تک وہ پیدا ہو کر رہے گی۔“
اس میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے مدینہ آنے سے پہلے مال غنیمت کو تقسیم کیا ہے جیسا کہ امام اوزاعی اور امام شافعی رحمہما اللہ کا موقف ہے۔ ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بنو مصطلق کو فتح کیا اور ان پر غالب ہوئے تو ان کا علاقہ دار الاسلام میں شامل ہو گیا اور آپ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو ان سے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے روانہ کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے ابو یوسف رحمہ اللہ کا رد کرتے ہوئے جواب دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر حملہ کیا جبکہ وہ اپنے جانوروں میں مشغول تھے۔ ان کے قیدیوں کو قتل کیا گیا اور مالوں اور قیدیوں کو تقسیم کیا گیا۔ یہ ان کے علاقہ میں پانچ ہجری میں ہوا، جبکہ وہ اس کے کافی عرصہ بعد مسلمان ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے ولید بن عقبہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور یہ دس ہجری کا وقت ہے اور جب آپ ﷺ ان سے فارغ ہو کر لوٹے تو وہ ابھی دشمن کا علاقہ تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ پانچ ہجری کو ہوا، اسی طرح عروہ اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں۔