❮
❯
حدیث نمبر: 17972
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ الدُّعَاءِ قَبْلَ الْقِتَالِ، قَالَ: فَكَتَبَ: إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ، وَأَنْعَامُهُمْ تُسْقَى عَلَى الْمَاءِ، فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبْيَهُمْ وَأَصَابَ يَوْمَئِذٍ ". قَالَ يَحْيَى: أَحْسِبُهُ قَالَ: جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ. وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے لڑائی سے پہلے (اسلام کی) دعوت دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے لکھا: یہ ابتداے اسلام میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق پر اچانک حملہ کیا جبکہ وہ غافل تھے، ان کے جانوروں کو پانی پلایا جا رہا تھا۔ ان کے لڑائی کے قابل لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور ان کے بال بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور اس دن آپ ﷺ کو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا ملیں (یحییٰ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے جویریہ بنت حارث کہا)۔ (نافع کہتے ہیں:) یہ حدیث مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کی اور وہ اس لشکر میں شامل تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17972
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»