السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: النفير وما يستدل به على أن الجهاد فرض على الكفاية باب: عام بلاوے (نفیر) اور اس دلیل کا بیان جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے۔
حدیث نمبر: 17945
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْفَرَّاءُ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْنٍ، قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ: مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْغَزْوِ؟ قَالَ: " فَكَتَبَ إِلِيَّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُغْزِي وَلَدَهُ وَيَحْمِلُ عَلَى الظَّهْرِ، وَمَا أَقْعَدَهُ عَنِ الْغَزْوِ إِلَّا وَصَايَا عُمَرَ وَصِبْيَانٌ صِغَارٌ، وَإِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُغْزِي وَلَدَهُ وَيَحْمِلُ عَلَى الظَّهْرِ وَيَرَى الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللهِ أَفْضَلَ الْأَعْمَالِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عون رحمہ اللہ نے سیدنا نافع رحمہ اللہ کو لکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غزوات میں کیوں نہ گئے؟ تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو جہاد پر بھیجتے اور (مجاہدین کو) سواریاں مہیا کرتے تھے، اور انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وصیتوں (کی ذمہ داری) اور چھوٹے بچوں نے ہی جہاد سے پیچھے روک رکھا تھا، اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جہاد فی سبیل اللہ کو نمازِ فرض کے علاوہ باقی تمام اعمال سے افضل قرار دیتے تھے۔