السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: النفير وما يستدل به على أن الجهاد فرض على الكفاية باب: عام بلاوے (نفیر) اور اس دلیل کا بیان جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے۔
حدیث نمبر: 17944
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْجِهَادَ فَلَمْ يُفَضِّلْ عَلَيْهِ شَيْئًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ فَرْضٌ عَلَى الْكِفَايَةِ حَيْثُ فَضَّلَ عَلَيْهِ الْمَكْتُوبَةَ بِعَيْنِهَا، وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور اس میں جہاد کا ذکر کیا اور فرض کے علاوہ کسی چیز کو اس پر افضل قرار نہیں دیا۔ یہ اس کی دلیل ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے کیونکہ اس کو فرض میں سے درجے میں کم رکھا گیا ہے۔