السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: النفير وما يستدل به على أن الجهاد فرض على الكفاية باب: عام بلاوے (نفیر) اور اس دلیل کا بیان جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جہاد فرضِ کفایہ ہے۔
حدیث نمبر: 17946
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، ثنا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: " يُجْزِي عَنِ الْجَمَاعَةِ إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ أَحَدُهُمْ، وَيُجْزِي عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جبکہ امام ابو داؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ (ان کے استاد) حسن بن علی نے اسے مرفوعاً (نبی ﷺ کے فرمان کے طور پر) بیان کیا ہے کہ ”جماعت کی طرف سے ایک آدمی کا سلام کہنا کافی ہے اور بیٹھنے والوں میں سے بھی ایک کا جواب کافی ہے۔“