السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17912
وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ فَرْقَدٍ بَعَثَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَذْرَبِيجَانَ بِخَبِيصٍ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَيَشْبَعُ الْمُسْلِمُونَ فِي رِحَالِهِمْ مِنْ هَذَا؟ ". فَقَالَ الرَّسُولُ: اللهُمَّ لَا. فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَا أُرِيدُهُ ". وَكَتَبَ إِلَى عُتْبَةَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ، فَأَشْبِعْ مَنْ قِبَلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا ⦗٧٤⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ نے کچھ حلوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آذربائیجان سے بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے قاصد سے پوچھا: ”کیا مسلمان اس سے سیر ہو گئے ہیں؟“ تو اس نے کہا: ”نہیں۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مجھے یہ نہیں چاہیے۔“ اور عتبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ”یہ تیری کوشش و محنت سے نہیں ہے نہ تیرے ماں باپ کی کوشش سے ہے۔ پہلے ان مسلمانوں کو سیر کر جو تیرے پاس ہیں، اپنے گھر اتنا دے جتنا تو نے اپنے گھر کے لیے رکھا ہے۔“