السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْهُذَلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: لَمَّا كَانَتِ الرَّمَادَةُ أَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ رَكِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَابَّةً لَهُ، فَرَأَى فِي رَوْثِهَا شَعِيرًا فَقَالَ: " وَاللهِ لَا أَرْكَبُهَا حَتَّى يَحْسُنَ حَالُ النَّاسِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قحط کے سال مسلمانوں کو سخت فاقے لاحق ہوئے۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی سواری پر سوار تھے تو انہوں نے اس کی لید میں جَو کا ایک دانہ دیکھا تو کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر سوار نہیں ہوں گا حتیٰ کہ لوگوں کی حالت بہتر ہو جائے۔