السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: " مِمَّنْ أَنْتَ؟ ". قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ مِصْرَ. قَالَتْ: " كَيْفَ وَجَدْتُمُ ابْنَ حُدَيْجٍ فِي غَزَاتِكُمْ هَذِهِ؟ ". قُلْتُ: خَيْرَ أَمِيرٍ، مَا يَنْفُقُ لِرَجُلٍ مِنَّا فَرَسٌ وَلَا بَعِيرٌ إِلَّا أَبْدَلَ لَهُ مَكَانَهُ بَعِيرًا، وَلَا غُلَامٌ إِلَّا أَبْدَلَ لَهُ مَكَانَهُ غُلَامًا، فَقَالَتْ: " إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي قَتْلُهُ أَخِي أَنْ أُحَدِّثَكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ ". وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَسَّانَ الْعَطَّارُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ.عبدالرحمن بن شماسہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، انہوں نے پوچھا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: مصری ہوں، تو انہوں نے پوچھا: تم نے اپنی لڑائیوں میں ابن حُدیج کو کیسا پایا؟ میں نے کہا: وہ اچھا امیر ہے، جنگ میں جس کا گھوڑا یا اونٹ کام آیا، وہ اس کا بدلہ اونٹ سے دیتا ہے اور اگر کسی کا غلام کام آیا (مارا گیا) تو وہ بدلہ میں اس کو غلام دیتا ہے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس کا میرے بھائی کو قتل کرنا مجھے وہ حدیث بیان کرنے سے نہیں روکتا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ، وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ» ”اے اللہ! جو شخص مسلمانوں کے معاملات کا وارث ہو، کسی طرح بھی ممکن ہو ان پر نرمی کرے، تو اے اللہ! اس پر نرمی کر، اور جو ان پر مشقت کا ذریعہ بن جائے، اے اللہ! تو اس پر مشقت ڈال دے۔“