السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، أَنَّ حَفْصَةَ، وَابْنَ مُطِيعٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَلَّمُوا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: لَوْ أَكَلْتَ طَعَامًا طَيِّبًا كَانَ أَقْوَى لَكَ عَلَى الْحَقِّ. قَالَ: " أَكُلُّكُمْ عَلَى هَذَا الرَّأْيِ؟ ". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ إِلَّا نَاصِحٌ، وَلَكِنْ تَرَكْتُ صَاحِبِيَّ عَلَى جَادَّةٍ فَإِنْ تَرَكْتُ جَادَّتَهُمَا لَمْ أُدْرِكْهُمَا فِي الْمَنْزِلِ ". قَالَ: " وَأَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ فَمَا أَكَلَ عَامَئِذٍ سَمْنًا وَلَا سَمِينًا حَتَّى أَحْيَا النَّاسُ.سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا، ابن مطیع اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ سے کہا کہ اگر آپ اچھا کھانا کھائیں تو یہ آپ کو حق کا کام کرنے کے لیے مضبوط کرے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم سب کی یہی رائے ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: میں جانتا ہوں تم میرے خیر خواہ ہو لیکن میں اپنے دونوں ساتھیوں کے راستے کو چھوڑ دوں اور اگر میں نے ان کا طریقہ چھوڑ دیا تو میں قیامت کے دن ان کو نہیں پا سکوں گا۔ لوگوں پر تنگی کا سال آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پورا سال گھی نہیں کھایا اور نہ بھنا ہوا موٹا گوشت، حتیٰ کہ لوگ جان میں آگئے اور ترو تازہ ہوگئے۔