السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ غَلَا فِيهَا السَّمْنُ، فَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُ الزَّيْتَ فَيُقَرْقِرُ بَطْنُهُ ". وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَى قَالَ: " كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْكُلُهُ، فَلَمَّا قَلَّ قَالَ: " لَا آكُلُهُ حَتَّى يَأْكُلَهُ النَّاسُ ". قَالَ: فَكَانَ يَأْكُلُ الزَّيْتَ فَيُقَرْقِرُ بَطْنُهُ ". قَالَ ابْنُ مُكْرَمٍ فِي رِوَايَتِهِ: " فَقَالَ: " قَرْقِرْ مَا شِئْتَ فَوَاللهِ لَا آكُلُ السَّمْنَ حَتَّى يَأْكُلَهُ النَّاسُ ". ثُمَّ قَالَ لِي: " اكْسِرْ حَرَّهُ عَنِّي بِالنَّارِ ". فَكُنْتُ أَطْبُخُهُ لَهُ فَيَأْكُلُهُ.حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ کے والد فرماتے ہیں: مسلمانوں پر ایک ایسا سال آیا جس میں گھی کی قیمت بڑھ گئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ زیتون کا تیل کھاتے تھے جس سے ان کا پیٹ بولتا (گڑگڑاتا) تھا، اور یحییٰ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھی کھاتے تھے۔ جب وہ کم ہو گیا تو انہوں نے کہا: اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہ کھائیں۔ چنانچہ آپ تیل کھایا کرتے تھے جس سے آپ کا پیٹ بولتا تھا۔ ابن مکرم کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیٹ کو مخاطب کر کے کہا: جتنا چاہے بول، اللہ کی قسم! میں اس وقت تک گھی نہیں کھاؤں گا جب تک لوگ نہ کھائیں۔ پھر انہوں نے مجھے کہا: اس کی گرمی کو آگ سے ختم کرو، میں آپ کے لیے اس کو پکاتا تھا اور آپ کھاتے تھے۔