السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17908
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي الثَّقَفِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَهُ: " إِذَا حَاصَرْتُمُ الْمَدِينَةَ كَيْفَ تَصْنَعُونَ؟ ". قَالَ: نَبْعَثُ الرَّجُلَ إِلَى الْمَدِينَةِ ونَصْنَعُ لَهُ هَنَةً مِنْ جُلُودٍ. قَالَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ ⦗٧٣⦘ رُمِيَ بِحَجَرٍ؟ ". قَالَ: إِذًا يُقْتَلَ. قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنْ تَفْتَتِحُوا مَدِينَةً فِيهَا أَرْبَعَةُ آلَافِ مُقَاتِلٍ بِتَضْيِيعِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: جب تم کسی شہر کا محاصرہ کرتے ہو تو کیا طریقہ اختیار کرتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم شہر کی طرف ایک آدمی کو بھیجتے ہیں اور اسے چمڑے کی ڈھال دیتے ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اگر اسے پتھر پھینک کر مارا جائے تو؟ عرض کیا: پھر وہ مر جائے گا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اللہ کی قسم! ایک مسلمان کا ضیاع چار ہزار لڑائی کے قابل آدمیوں کے شہر کی فتح کے بدلہ میں بھی پسند نہیں ہے۔