حدیث نمبر: 17907
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَأَنَا أَرَى أَنَّ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يُرِيدُ بِهِ اللهَ وَمَا عِنْدَهُ، فَيُخَيَّلُ إِلِيَّ بِأَخَرَةٍ أَنَّ قَوْمًا قَرءُوهُ يُرِيدُونَ بِهِ النَّاسَ وَيُرِيدُونَ بِهِ الدُّنْيَا، أَلَا فَأَرِيدُوا اللهَ بِأَعْمَالِكُمْ، ألَا فَأَرِيدُوا اللهَ بِأَعْمَالِكُمْ، أَلَا إِنَّمَا كُنَّا نَعْرِفُكُمْ إِذْ يَتَنَزَّلُ الْوَحْيُ، وَإِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَإِذْ نَبَّأَنَا اللهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ، فَقَدِ انْقَطَعَ الْوَحْيُ وَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّمَا نَعْرِفُكُمْ بِمَا أَقُولُ لَكُمْ، أَلَا مَنْ رَأَيْنَا مِنْهُ خَيْرًا ظَنَنَّا بِهِ خَيْرًا وَأَحْبَبْنَاهُ عَلَيْهِ، وَمَنْ رَأَيْنَا مِنْهُ شَرًّا ظَنَنَّا بِهِ شَرًّا وَأَبْغَضْنَاهُ عَلَيْهِ، سَرَائِرُكُمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ رَبِّكُمْ، أَلَا إِنَّمَا أَبْعَثُ عُمَّالِي لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَلِيُعَلِّمُوكُمْ سُنَّتَكُمْ، وَلَا أَبْعَثُهُمْ لِيَضْرِبُوا ظُهُورَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، أَلَا فَمَنْ رَابَهُ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ، فَوَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّ مِنْهُ ". فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنْ بَعَثْتَ عَامِلًا مِنْ عُمَّالِكَ فَأَدَّبَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ رَعِيَّتِهِ فَضَرَبَهُ إِنَّكَ لَمُقِصُّهُ مِنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَأُقِصَّنَّ مِنْهُ، وَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ، وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكْفِرُوهُمْ، وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو فراس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ لوگوں کو وعظ کر رہے تھے کہ ”اے لوگو! مجھ پر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ میں نے لوگوں کو دیکھا وہ قرآن پڑھتے تھے، بدلہ اللہ کی رضا اور اجر چاہتے تھے۔ پھر میں تصور کرتا ہوں کہ بعد والوں میں ایک ایسی قوم ہوگی جو قرآن پڑھے گی مگر لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اور بدلے میں دنیا کا مال حاصل کرنے کے لیے۔ خبردار! تلاوتِ قرآن سے اللہ کی رضا طلب کرو۔ خبردار! اپنے اعمال سے اللہ کو راضی کرو۔ خبردار! ہم تمہیں جانتے ہیں، جب وحی نازل ہو رہی تھی اور نبی ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے بارے میں خبریں دے دی تھیں۔ اب وحی ختم ہو گئی اور نبی ﷺ فوت ہو گئے اور ہم جانتے ہیں جو تم کو کہتے ہیں۔ خبردار! جس میں ہم بھلائی دیکھتے ہیں اور بھلا خیال کرتے ہیں اور اس کو پسند کرتے ہیں، اور جس میں برائی دیکھتے ہیں اس کو برا سمجھتے ہیں اور اس پر ناراض ہوتے ہیں، اور تمہارے راز اللہ اور تمہارے درمیان ہیں۔ خبردار! ہم عمال کو اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ تمہیں دین اور سنت سکھائیں، اس لیے نہیں بھیجتے کہ وہ تمہاری پیٹھ پر ماریں اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارا مال لے لیں۔ خبردار! اگر کسی کو ان باتوں میں شک ہو تو وہ ہم تک پہنچائے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر کی جان ہے! میں اس سے بدلہ لوں گا۔“ تو سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: ”اے امیر المؤمنین! اگر آپ کسی عامل کو بھیجیں اور وہ ادب سکھانے کے لیے کسی کو مارے تو کیا اس سے بھی بدلہ لیں گے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہاں! اللہ کی قسم میں اس سے بھی بدلہ لوں گا۔ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ خود کو قصاص کے لیے پیش کرتے تھے۔ خبردار! مسلمانوں کو مار کر ذلیل نہ کرو، ان کے حقوق غصب نہ کرو، ان کو گھر جانے سے روک کر فتنے میں مبتلا نہ کرو اور دشوار گزار جگہ اتار کر مسلمانوں کو ہلاک نہ کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17907
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»