السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17906
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنْ بَنِي أَسَدٍ عَلَى عَمَلٍ فَجَاءَ يَأْخُذُ عَهْدَهُ، قَالَ: فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِبَعْضِ وَلَدِهِ فَقَبَّلَهُ، قَالَ: أَتُقَبِّلُ هَذَا؟ مَا قَبَّلْتُ وَلَدًا قَطُّ. فَقَالَ عُمَرُ: " فَأَنْتَ بِالنَّاسِ أَقَلُّ رَحْمَةً، هَاتِ عَهْدَنَا، لَا تَعْمَلْ لِي عَمَلًا أَبَدًا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بنو اسد کے ایک آدمی کے ذمہ ایک کام لگایا، جب وہ کام کر کے واپس آیا تو اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کا کوئی بچہ لایا گیا تو انہوں نے اس کو بوسہ دیا، اس نے کہا: ”کیا آپ اس کو بوسہ دیتے ہیں! میں نے کبھی کسی بچے کو بوسہ نہیں دیا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم لوگوں کے معاملے میں مہربانی کم ہے، ہمارا کام واپس کر دے اور آئندہ کبھی ہمارے لیے کام نہ کرنا۔“