السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْإِمَامُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، فَقَالَ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ بِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللهِ وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا ".عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے۔ اسی مرض میں ہی آپ فوت ہو گئے تھے۔ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور انہوں نے کہا: اگر مجھے علم ہوتا کہ میری زندگی ابھی باقی ہے تو میں یہ حدیث نہ بیان کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس بندے کو اللہ کسی قوم کا نگران بنا دے اور وہ اپنی قوم کو دھوکا دے تو وہ جب بھی مرے گا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔“
سلیمان بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی لشکر کو روانہ کرتے اور ان کا امیر مقرر کرتے تو اس کو خاص تقویٰ کی نصیحت کرتے اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے ان کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتے۔