السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17903
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي غَزْوَةٍ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ، فَكَتَبَ جَرِيرٌ إِلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللهُ ". قَالَ: وَكَتَبَ مُعَاوِيَةُ أَنْ يَقْفِلُوا. قَالَ: وَمَتَّعَهُمْ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَأَنَا أَدْرَكْتُ قَطِيفَةً مِمَّا مَتَّعَهُمْ.حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق کے والد کہتے ہیں کہ ہم سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ ہمیں بھوک لاحق ہوئی تو سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان لکھا کہ ”جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ اس پر رحم نہیں کرتا۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ وہ لوٹ آئیں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کو مال دیا۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے اس میں سے ایک چادر پائی تھی۔