السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما على الوالي من أمر الجيش باب: لشکر کے معاملات میں حاکم پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
حدیث نمبر: 17901
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، أَنَّ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ رَضِيَ ⦗٧١⦘ اللهُ عَنْهُ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَلَا يَنْصَحُ إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ وَغَيْرِهِ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو ملیح رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی تیمار داری کے لیے گئے تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں تجھ کو ایسی حدیث سنا رہا ہوں، اگر میری موت قریب نہ ہوتی تو میں نہ بتاتا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمانوں کا والی ہو اور وہ ان کے لیے جدوجہد نہ کرے اور ان کی خیر خواہی نہ کرے، وہ اپنی قوم کے ساتھ جنت میں نہیں جائے گا۔“