حدیث نمبر: 1788
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلُّوشَا بِأَسْدَابَادَ هَمْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيُّ يُحَدِّثُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ وَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا قَالَ: فَلَمَّا كَانَ أَذَانُ صَلَاةِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ فَيَقُولُ: " لَا " حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلِيَّ وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ قَالَ: " هَلْ مِنْ مَاءٍ يَا أَخَا صُدَاءٍ؟ " فَقُلْتُ: لَا إِلَّا شَيْءٌ قَلِيلٌ لَا يَكْفِيكَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اجْعَلْهُ فِي إِنَاءٍ ثُمَّ ائْتِنِي بِهِ " فَفَعَلْتُ فَوَضَعَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ، قَالَ الصُّدَائِيُّ: فَرَأَيْتُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ عَيْنًا تَفُورُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنِّي أَسْتَحْيِي مِنْ رَبِّي لَسَقَيْنَا وَأَسْقَيْنَا نَادِ بِأَصْحَابِي مَنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الْمَاءِ " فَنَادَيْتُ فِيهِمْ فَأَخَذَ مَنْ أَرَادَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَى الصَّلَاةِ " فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ " قَالَ الصُّدَائِيُّ: فَأَقَمْتُ الصَّلَاةَ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ مُخْتَصَرًا وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ أَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَذَّنْتُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اسلام پر بیعت کی۔۔۔، فرماتے ہیں کہ جب صبح کی اذان کا وقت ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ کو حکم دیا، میں نے اذان کہی۔ پھر میں کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! کیا میں اقامت کہوں؟“ رسول اللہ ﷺ مشرقی کنارے کی طرف فجر کو دیکھ رہے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جب تک فجر طلوع نہ ہو جائے۔“ رسول اللہ ﷺ اترے، آپ ﷺ نے قضائے حاجت کی، پھر میری طرف پھرے اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ملے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے صداء کے بھائی! کیا تیرے پاس پانی ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، تھوڑا سا ہے، جو آپ کو کافی نہیں ہو گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو برتن میں انڈیل کر میرے پاس لا۔“ میں نے ایسے ہی کیا، آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی پانی میں رکھی۔ صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا آپ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمہ پھوٹا ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں اپنے رب سے حیا نہ کرتا تو ہم پیتے اور پلاتے، میرے صحابہ کو آواز دے جس کو پانی کی ضرورت ہے (وہ لے لے)۔“ میں نے انہیں آواز دی تو پانی لیا جس نے چاہا، پھر رسول اللہ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا تو ان سے نبی ﷺ نے فرمایا: ”صداء کے بھائی نے اذان دی ہے اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔“ صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے نماز کی اقامت کہی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1788
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد 514»