السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ، ثنا أَبُو الطُّفَيْلِ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ وَبَيْنَ حُذَيْفَةَ بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللهِ كَمْ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: أَخْبِرْهُ إِذْ سَأَلَكَ. قَالَ: كُنَّا نُخْبَرُ أَنَّهُمْ أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَإِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ خَمْسَةَ عَشَرَ، وَأَشْهَدُ بِاللهِ أَنَّ اثْنَيْ عَشَرَ مِنْهُمْ حَرْبٌ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ وَعُذِرَ ثَلَاثَةٌ. قَالُوا: مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ، وَقَدْ كَانَ فِي حَرَّةٍ فَمَشَى، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ قَلِيلٌ فَلَا يَسْبِقْنِي إِلَيْهِ أَحَدٌ. فَوَجَدَ قَوْمًا قَدْ سَبَقُوهُ، فَلَعَنَهُمْ يَوْمَئِذٍ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي أَحْمَدَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الزُّبَيْرِيِّ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَتَخَلَّفَ آخَرُونَ مِنْهُمْ فِيمَنْ بِحَضْرَتِهِ، ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ غَزَاةَ تَبُوكَ، أَوْ مُنْصَرَفَهُ مِنْهَا مِنْ أَخْبَارِهِمْ، فَقَالَ: {وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللهُ انْبِعَاثَهُمْ} [التوبة: ٤٦]، قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ: {وَيَتَوَلَّوْا وَهُمْ فَرِحُونَ} [التوبة: ٥٠] ". قَالَ الشَّيْخُ: " هُوَ بَيِّنٌ فِي مَغَازِي مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَابْنِ إِسْحَاقَ ".سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عقبہ کے لوگوں میں سے ایک آدمی کی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چپقلش تھی جیسا کہ لوگوں میں ہوتی ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کو گواہ بنا کر بتاؤ، عقبہ کے کتنے لوگ تھے؟ تو قوم نے کہا: جب اس نے سوال کیا ہے تو بتا دو، تو اس نے کہا: ہم چودہ تھے، اگر میں بھی ہوں تو پندرہ ہوں گے، میں گواہی دیتا ہوں کہ ان میں بارہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑ رہے تھے دنیا اور آخرت دونوں میں، اور تین کا عذر بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ہم نے نبی ﷺ کا اعلان نہیں سنا تھا اور نہ قوم کا ارادہ معلوم تھا، اور یہ غزوہ گرمی میں تھا، وہ چلے اور کہتے ہیں کہ پانی قلیل تھا۔ میں سب سے پہلے پہنچا تو دیکھا کہ ایک گروہ اس سے بھی آگے ہے، آپ ﷺ نے اس دن ان پر لعنت کی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حاضرین میں سے کچھ لوگ پیچھے رہ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے غزوہ تبوک کے دوران یا واپسی پر ان کی خبریں نازل کر دیں اور یہ آیات تلاوت کیں: ﴿وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعَاثَهُمْ﴾ [سورة التوبة: 46] یہاں تک پڑھا ﴿وَيَتَوَلَّوْا وَهُمْ فَرِحُونَ﴾ [سورة التوبة: 50] ”اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے کچھ سامان ضرور تیار کرتے لیکن انہوں نے اس کا اٹھانا پسند کیا۔۔۔ اور اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ خوش ہیں۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ مغازی میں وضاحت موجود ہے۔