السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجَهَّزَ غَازِيًا يُرِيدُ الشَّامَ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْخُرُوجِ وَأَمَرَهُمْ بِهِ فِي قَيْظٍ شَدِيدٍ فِي لَيَالِي الْخَرِيفِ، فَأَبْطَأَ عَنْهُ نَاسٌ كَثِيرٌ وَهَابُوا الرُّومَ، فَخَرَجَ أَهْلُ الْحِسْبَةِ وَتَخَلَّفَ الْمُنَافِقُونَ، وَحَدَّثُوا أَنْفُسَهُمْ أَنَّهُ لَا ⦗٥٨⦘ يَرْجِعُ أَبَدًا وَثَبَّطُوا عَنْهُ مَنْ أَطَاعَهُمْ، وَتَخَلَّفَ عَنْهُ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لِأَمْرٍ كَانَ لَهُمْ فِيهِ عُذْرٌ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ، قَالَ: وَأَتَاهُ جَدُّ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ نَفَرٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي فِي الْقُعُودِ فَإِنِّي ذُو ضَيْعَةٍ وَعْلَةٍ بِهَا عُذْرٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَجَهَّزْ فَإِنَّكَ مُوسِرٌ لَعَلَّكَ تُحْقِبُ بَعْضَ بَنَاتِ الْأَصْفَرِ ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي بِبَنَاتِ الْأَصْفَرِ. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ: {وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ} [التوبة: ٤٩]، عَشْرَ آيَاتٍ يَتْبَعُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنُونَ مَعَهُ، وَكَانَ فِيمَنْ تَخَلَّفَ ابْنُ عَنَمَةَ أَوْ عَنْمَةَ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَقِيلَ لَهُ: مَا خَلَّفَكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: الْخَوْضُ وَاللَّعِبُ. فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ وَفِيمَنْ تَخَلَّفَ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ}، ثَلَاثَ آيَاتٍ مُتَتَابِعَاتٍ ".حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شام کے لیے ایک لشکر تیار کیا۔ جب لوگوں کو نکلنے کا حکم دیا تو موسم بہت گرم تھا اور موسم خزاں کی راتیں بھی۔ لوگوں نے سستی کا مظاہرہ کیا اور رومیوں سے ڈر گئے، جن کو ثواب کی امید تھی وہ نکل گئے۔ منافقین پیچھے رہے اور اپنے جی میں باتیں کرتے تھے کہ جانے والے واپس نہیں آئیں گے اور یہ رکے رہے۔ اطاعت کرنے والوں سے کچھ مسلمان بھی عذر کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جد بن قیس آپ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ مسجد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے بیٹھنے کی اجازت دیں، میں زمیندار ہوں اور بھی کچھ وجوہات ہیں جو میرے لیے عذر ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیاری کر، تو مال دار آدمی ہے، شاید تو رومیوں کی لڑکیوں کو اپنے پیچھے سوار کرے۔“ تو اس نے کہا: آپ مجھے اجازت دیں، رومیوں کی لڑکیاں مجھے فتنے میں مبتلا نہیں کریں گی، تو اللہ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلَا تَفْتِنِّي أَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ﴾ [سورة التوبة: 49] ”ان میں وہ ہے جو کہتا ہے مجھے اجازت دے دیں اور مجھے فتنہ میں نہ ڈالیں، سن لو وہ فتنے ہی میں تو پڑے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو ضرور گھیرنے والی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ اور مومنین نکلے اور پیچھے رہنے والوں میں ابن عنمہ یا عنمہ جو بنی عمرو بن عوف سے ہے وہ بھی تھا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ پیچھے کیوں رہا تو اس نے کہا: شغل اور دل لگی کے لیے، تو اللہ نے اس کے اور منافقین کے بارے میں آیت نازل فرما دی: ﴿وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ﴾ [سورة التوبة: 65] ”اور بلاشبہ اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور کہیں گے ہم تو صرف شغل کی بات کر رہے تھے، دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دے: کیا تم اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔“