السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 17868
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: " وَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَافِلًا مِنْ تَبُوكَ إِلَى الْمَدِينَةِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَكَرَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَتَآمَرُوا أَنْ يَطْرَحُوهُ مِنْ عَقَبَةٍ فِي الطَّرِيقِ ". ثُمَّ ذَكَرَ الْقِصَّةَ بِمَعْنَى ابْنِ إِسْحَاقَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں کچھ لوگوں نے آپ کے خلاف چال چلی اور مشورہ کیا کہ آپ کو راستے میں عقبہ سے نیچے گرا دیں گے۔ پھر ابن اسحاق کے ہم معنی قصہ نقل کیا ہے۔