السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لَمَّا قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ: لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا، وَقَالَ أَيْضًا: لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ، أُخْبِرْتُ بِذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ صَدَّقَكَ وَعَذَرَكَ، وَنَزَّلَ: {هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنْفِقُوا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى يَنْفَضُّوا} [المنافقون: ٧] الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ.حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی نے کہا کہ اللہ کے رسول کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو حتیٰ کہ وہ لوٹ جائیں اور اسی طرح کہا: اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا ذلیل کو ضرور نکال دے گا۔ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو خبر دی کہ انصاریوں نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے قسم اٹھائی کہ اس نے یہ نہیں کہا۔ میں اپنے گھر آ کر سو گیا۔ نبی ﷺ نے مجھے بلوایا، میں گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تیری تصدیق کی ہے اور عذر بیان کیا ہے۔“ قرآن نازل ہوا ﴿هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلَى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا﴾ [سورة المنافقون: 7] ”یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں: اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھیوں پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہوجائیں۔“