حدیث نمبر: 17864
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو عُلَاثَةَ: ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: " فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلَاءُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَذَكَرَ هَذِهِ الْقِصَّةَ، مِثْلَ قَوْلِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهَا: وَقَالَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يُخَذِّلُونَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " ثُمَّ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَشَهِدَهَا مَعَهُ مِنْهُمْ عَدَدٌ، فَتَكَلَّمُوا بِمَا حَكَى اللهُ مِنْ قَوْلِهِمْ: {لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ} [المنافقون: ٨]، وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا حَكَى اللهُ مِنْ نِفَاقِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آپ ﷺ اور ساتھیوں پر آزمائش سخت ہوئی (پھر موسیٰ بن عقبہ کی پوری حدیث مذکورہ نمبر 17861 بیان ہوئی ہے) مگر آخر میں یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے کہا (جو نبی ﷺ سے مدد کا ہاتھ کھینچ چکے تھے) کہ اے یثرب والو! یہاں سے لوٹ چلو، تمہارے لیے یہاں کوئی قیام گاہ نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: منافقین میں سے کچھ لوگ غزوہ بنی مصطلق میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے، انہوں نے بھی نازیبا باتیں کیں جن کو اللہ نے حکایتاً بیان فرمایا ہے: ﴿یَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَی الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”اگر ہم مدینہ واپس گئے تو زیادہ عزت والا اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا۔“ اس کے علاوہ دوسری آیات ہیں جن میں اللہ نے ان کے نفاق کو بیان فرمایا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17864
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»