السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرُو، وَسَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ ⦗٥٦⦘ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كُنَّا فِي غَزَاةٍ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى: كُنَّا فِي جَيْشٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا لَلْأَنْصَارِ، وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ: يَا لَلْمُهَاجِرِينَ، فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَا بَالُ دَعْوَى جَاهِلِيَّةٍ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ. فَقَالَ: " دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ ". فَسَمِعَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أُبَيٍّ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلُوهَا، أَمَا وَاللهِ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ. فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ؛ لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ ". قَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ أَكْثَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِينَ كَثُرُوا بَعْدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ بِالْإِسْنَادِ الَّذِي تَقَدَّمَ أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَكَذَلِكَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: " ثُمَّ غَزَا غَزْوَةَ تَبُوكَ، فَشَهِدَهَا مَعَهُ مِنْهُمْ قَوْمٌ نَفَرُوا بِهِ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ لِيَقْتُلُوهُ، فَوَقَاهُ اللهُ شَرَّهُمْ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ بَيِّنٌ فِي الْمَغَازِي.جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم کسی غزوہ میں تھے کہ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا، تو انصاری نے کہا: اے انصار! (مدد کو آؤ) اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! (مدد کو آؤ)۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سنا تو فرمایا: ”یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کی سرین پر مارا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ بدبودار بات ہے۔“ عبداللہ بن ابی نے یہ سنا تو کہا: کیا انہوں نے ایسا کیا ہے؟ اللہ کی قسم! ﴿لَئِنْ رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ﴾ [سورة المنافقون: 8] ”اگر ہم مدینہ واپس گئے تو معزز، ذلیل کو ضرور نکال دے گا۔“ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔“ جب مہاجرین مدینہ آئے تو انصار زیادہ تھے، پھر مہاجرین زیادہ ہو گئے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غزوہ تبوک میں بھی منافقین میں سے کچھ لوگ شریک تھے۔ عقبہ کی رات کچھ لوگ آپ ﷺ کو قتل کرنے کے لیے نکلے تھے مگر اللہ نے آپ ﷺ کو ان کے شر سے محفوظ رکھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی تفصیل مغازی میں ہے۔