حدیث نمبر: 17863
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَوْذَبٍ الْوَاسِطِيُّ بِهَا، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُحُدٍ رَجَعَ قَوْمٌ مِنَ الطَّرِيقِ، فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ فِرْقَتَيْنِ: فِرْقَةٌ تَقُولُ: نَقْتُلُهُمْ، وَفِرْقَةٌ تَقُولُ: لَا نَقْتُلُهُمْ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا} [النساء: ٨٨]. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " ثُمَّ شَهِدُوا مَعَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَتَكَلَّمُوا بِمَا حَكَى الله عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْلِهِمْ: {مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا} [الأحزاب: ١٢]. قَالَ الشَّيْخُ: " هُوَ بَيِّنٌ فِي الْمَغَازِي عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، وَغَيْرِهِمَا. قَالَ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ - الْإِسْنَادُ الَّذِي تَقَدَّمَ فِي قِصَّةِ الْخَنْدَقِ -: فَلَمَّا اشْتَدَّ الْبَلَاءُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ نَافَقَ نَاسٌ كَثِيرٌ وَتَكَلَّمُوا بِكَلَامٍ قَبِيحٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِيهِ ⦗٥٥⦘ النَّاسُ مِنَ الْبَلَاءِ وَالْكَرْبِ جَعَلَ يُبَشِّرُهُمْ وَيَقُولُ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيُفَرَّجَنَّ عَنْكُمْ مَا تَرَوْنَ مِنَ الشِّدَّةِ وَالْبَلَاءِ، فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ آمِنًا، وَأَنْ يَدْفَعَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مَفَاتِحَ الْكَعْبَةِ، وَلَيُهْلِكَنَّ اللهُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وَلَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللهِ ". فَقَالَ رَجُلٌ مِمَّنْ مَعَهُ لِأَصْحَابِهِ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ مُحَمَّدٍ يَعِدُنَا أَنْ نَطُوفَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَأَنْ نَغْنَمَ كُنُوزَ فَارِسَ وَالرُّومِ، وَنَحْنُ هَا هُنَا لَا يَأْمَنُ أَحَدُنَا أَنْ يَذْهَبَ إِلَى الْغَائِطِ، وَاللهِ لَمَا يَعِدُنَا إِلَّا غُرُورًا. وَقَالَ آخَرُونَ مِمَّنْ مَعَهُ: ائْذَنْ لَنَا فَإِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ. وَقَالَ آخَرُونَ: يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مَقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا. وَسَمَّى ابْنُ إِسْحَاقَ الْقَائِلَ الْأَوَّلَ مُعَتِّبَ بْنَ قُشَيْرٍ، وَالْقَائِلَ الثَّانِيَ أَوْسَ بْنَ قَيْظِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ احد کی طرف گئے تو کچھ لوگ راستے سے ہی واپس آگئے، جو لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ان میں دو گروہ تھے؛ ایک کہتا تھا: ”ہم ان سے قتال کریں گے۔“ ایک کہتا تھا: ”ہم ان سے قتال نہیں کریں گے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا﴾ [سورة النساء: 88] ”پھر تمہیں کیا ہوا کہ منافقین کے بارے میں دو گروہ ہو گئے۔ حالانکہ اللہ نے انہیں اس وجہ سے الٹا کر دیا جو انہوں نے کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر یہ لوگ خندق میں شریک ہوئے تو انہوں نے کلام کیا۔ اس میں جو اس نے بیان کیا تھا: ﴿مَّا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا﴾ [سورة الأحزاب: 12] ”اللہ اور اس کے رسول نے ہمارے ساتھ دھوکے کا وعدہ کیا ہے۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ مغازی میں بالتفصیل موسیٰ بن عقبہ سے اور محمد بن اسحاق اور دیگر سے بیان ہوا ہے اور خندق کے قصے میں گزر گیا ہے کہ جب آزمائش سخت ہو گئی۔ آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر اکثر لوگ منافق ہو گئے اور کلامِ قبیح (ناپسندیدہ) کرنے لگے۔ جب آپ ﷺ نے آزمائش اور تکلیف کی وجہ سے لوگوں کی یہ حالت دیکھی تو آپ ﷺ خوشخبری دینے لگے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو سخت آزمائش تم دیکھ رہے ہو وہ ضرور دور ہو جائے گی۔ مجھے امید ہے ہم بیت اللہ کا طواف پُرامن ہو کر کریں گے اور اللہ تعالیٰ مجھے کعبہ کی چابیاں دے گا اور وہ ضرور کسریٰ و قیصر کو ہلاک کرے گا اور تم ان کا خزانہ اس کی راہ میں خرچ کرو گے۔“ منافقوں میں سے ایک آدمی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”کیا تم کو محمد ﷺ پر حیرانی نہیں ہوئی؟ وہ ہمیں بیت اللہ کے طواف اور فارس و روم کے خزانوں کی تقسیم کے وعدے دیتا ہے، جبکہ ہم اپنی حاجت کے لیے جائیں تو بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اللہ کی قسم! یہ ہمارے ساتھ دھوکا کرتا ہے۔“ دوسروں نے کہا: ”ہمیں اجازت دیں (ہمارے گھر جانے کی)۔“ اور کچھ نے کہا: ﴿يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا﴾ [سورة الأحزاب: 13] ”اے یثرب والو! یہاں تمہارے لیے کوئی ٹھکانا نہیں ہے، لوٹ جاؤ۔“ ابن اسحاق نے پہلے قائل کا نام معتب بن قشیر اور دوسرے کا نام اوس بن قیظی نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17863
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»