السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الإمام لا يجمر بالغزى باب: امام غازیوں کو محاذِ جنگ پر مسلسل طویل عرصے تک نہ روکے رکھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَسَمِعَ امْرَأَةً تَقُولُ:.حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کو نکلے، انہوں نے ایک عورت کی آواز سنی، وہ شعر پڑھ رہی تھی: رات لمبی ہو گئی اور اس کے اطراف سیاہ ہو گئے ہیں، میری راتوں کی نیند اڑا دی ہے اس بات نے کہ میرا حبیب (محبوب) نہیں ہے، اللہ کی قسم! اگر اللہ نہ ہوتا تو میں اس کی دیکھ بھال کرتی اور اس چارپائی کے پہلو حرکت کرتے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت زیادہ سے زیادہ اپنے خاوند کے بغیر کتنا صبر کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا: چھ ماہ یا چار ماہ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کسی لشکر کو اس سے زیادہ نہیں روکوں گا۔