حدیث نمبر: 17849
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، أنبأ ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ جَيْشًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا بِأَرْضِ فَارِسَ مَعَ أَمِيرِهِمْ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْقِبُ الْجُيُوشَ فِي كُلِّ عَامٍ، فَشُغِلَ عَنْهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا مَرَّ الْأَجَلُ قَفَلَ أَهْلُ ⦗٥١⦘ ذَلِكَ الثَّغْرِ، فَاشْتَدَّ عَلَيْهِ وَأَوْعَدَهُمْ وَهُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: يَا عُمَرُ إِنَّكَ غَفَلْتَ عَنَّا، وَتَرَكْتَ فِينَا الَّذِي أَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِعْقَابِ بَعْضِ الْغَزِيَّةِ بَعْضًا ".
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار کا لشکر اپنے امیر کے ساتھ فارس میں تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ایک سال بعد لشکر کو واپس بلاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان سے غافل ہو گئے۔ جب مقررہ وقت گزر گیا تو سرحد والے لوگ لوٹ آئے۔ امیر نے ان پر سختی کی اور ڈرایا، حالانکہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہم سے غافل ہو گئے اور آپ نے ہمارے بارے میں نبی ﷺ کے اس حکم کو ترک کر دیا کہ ”لشکر کو تھوڑا تھوڑا کر کے واپس لایا جائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17849
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه السجستاني»