حدیث نمبر: 17848
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَإِنْ جَمَّرَهُمْ فَقَدْ أَسَاءَ وَيَجُوزُ لِكُلِّهِمْ خِلَافُهُ وَالرُّجُوعُ "..
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس اگر (امام) انہیں (سرحد پر) طویل مدت تک روکے رکھے اور گھر واپس نہ آنے دے تو اس نے برا کیا، اور ان سب کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی مخالفت کریں اور (اپنے گھروں کو) لوٹ جائیں۔“...

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ يَعْنِي مَحْبُوبَ بْنَ مُوسَى، ثنا الْفَزَارِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكُمْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ، وَلَا لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ، وَلَكِنْ بَعَثْتُهُمْ لِيُعَلِّمُوكُمْ دِينَكُمْ وَسُنَّتَكُمْ، فَمَنْ فُعِلَ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلِيَّ فَأَقُصَّهُ مِنْهُ، أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ وَلَا تَمْنَعُوهُمْ فَتُكْفِرُوهُمْ، وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ، وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو فراس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ میں ہمیں کہا: اے لوگو! میں عمال کو تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہارے چشموں کو بند کر دیں اور تمہارے مال کو لے لیں، ان کو اس لیے بھیجتا ہوں کہ وہ تم کو دین سکھائیں اور سنت سکھائیں، اگر ان میں سے کوئی اس کے علاوہ کام کرے تو اس کا معاملہ مجھ تک پہنچاؤ، میں اس سے بدلہ لوں گا۔ خبردار! مسلمانوں کو مار کر ان کو ذلیل نہ کرو، مسلمانوں کو بار بار ٹوک کر اور منع کر کے کفر پر مجبور نہ کریں اور گھروں کو واپسی سے مجاہدین کو نہ روکیں، اگر روکو گے تو وہ فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے اور مجاہدین کو مشکل راستوں پر ڈال کر ضائع نہ کرو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17848
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»