السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من استأجر إنسانا للخدمة في الغزو باب: اس شخص کے بیان میں جس نے جہاد میں خدمت کے لیے کسی انسان کو اجرت پر رکھا۔
حدیث نمبر: 17847
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا بَشِيرُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنِي فِي سَرَايَاهُ، فَبَعَثَنِي ذَاتَ يَوْمٍ وَكَانَ رَجُلٌ يَرْحَلُ لِي، فَقُلْتُ لَهُ: ارْحَلْ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِخَارِجٍ مَعَكَ. قُلْتُ: لِمَ؟ قَالَ: حَتَّى تَجْعَلَ لِي ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ. قُلْتُ: الْآنَ حِينَ وَدَّعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا بِرَاجِعٍ إِلَيْهِ ارْحَلْ وَلَكَ ثَلَاثَةُ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ مِنْ غَزَاتِي ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْطِهَا إِيَّاهُ، فَإِنَّهَا حَظُّهُ مِنْ غَزَاتِهِ ". وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسْمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ فِي مَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا یعلیٰ بن منیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مجھے غزوات میں بھیجتے تھے، ایک مرتبہ آپ ﷺ نے مجھے روانہ کیا، ایک آدمی میرے خچر پر سوار ہوتا تھا، میں نے اس سے کہا: سواری تیار کرو اور چلو، اس نے کہا: میں تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا، میں نے کہا: کیوں؟ اس نے کہا: پہلے میرے لیے تین دینار مقرر کرو، میں نے کہا: اب تو میں نکل گیا ہوں اور آپ ﷺ کی طرف نہیں جاؤں گا، سواری تیار کرو اور تجھے تین دینار ملیں گے، جب میں لڑائی سے واپس آیا تو میں نے آپ ﷺ کے سامنے اس کا ذکر کیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کو دے دو، یہی لڑائی سے اس کا حصہ ہے۔“