السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في تجهيز الغازي وأجر الجاعل باب: غازی کو سامانِ جنگ مہیا کرنے اور اجرت مقرر کرنے والے کے اجر و ثواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو زُرْعَةَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: نَادَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي وَأَقْبَلْتُ، وَقَدْ خَرَجَ أَوَّلُ صَحَابَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَفِقْتُ فِي الْمَدِينَةِ أُنَادِي، أَلَا مَنْ يَحْمِلُ رَجُلًا لَهُ سَهْمُهُ؟ فَنَادَى شَيْخٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: " لَنَا سَهْمُهُ عَلَى أَنْ نَحْمِلَهُ عُقْبَتَهُ وَطَعَامُهُ مَعَنَا ". قُلْتُ: نَعَمْ، فَسِرْ عَلَى بَرَكَةِ اللهِ، فَخَرَجْتُ مَعَ خَيْرِ صَاحِبٍ حَتَّى أَفَاءَ اللهُ عَلَيْنَا، فَأَصَابَنِي قَلَائِصُ فَسُقْتُهُنَّ حَتَّى أَتَيْتُهُ، فَخَرَجَ، فَقَعَدَ عَلَى حَقِيبَةٍ مِنْ حَقَائِبِ إِبِلِهِ، ثُمَّ قَالَ: " سُقْهُنَّ مُدْبِرَاتٍ "، ثُمَّ قَالَ: " سُقْهُنَّ مُقْبِلَاتٍ "، فَقَالَ: " مَا أَرَى قَلَائِصَكَ إِلَّا كِرَامًا ". قَالَ: إِنَّمَا هِيَ غَنِيمَتُكَ الَّتِي شَرَطْتُ. قَالَ: " خُذْ قَلَائِصَكَ ابْنَ أَخِي، فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا ". ⦗٥٠⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ أَنَّا لَمْ نَقْصِدْ بِمَا فَعَلْنَا الْإِجَارَةَ، وَإِنَّمَا قَصَدْنَا الِاشْتِرَاكَ فِي الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے منادی فرمائی۔ میں اپنے گھر گیا، جب واپس آیا تو آپ ﷺ کے ابتدائی ساتھی جا چکے تھے۔ میں نے مدینہ کا چکر لگایا اور اعلان کیا کہ جو شخص ایک آدمی کو سواری دے، اس کا حصہ سواری دینے والے کا ہو گا۔ انصار کے ایک معزز آدمی نے کہا کہ اس کا حصہ ہمارا ہو گا، اس کے بدلے میں ہم اس کو سواری دیں گے اور اس کا کھانا ہمارے ساتھ ہو گا۔ میں نے اسے قبول کر لیا، اس نے کہا: چلو اللہ کی برکت کے ساتھ۔ میں اپنے بہترین ساتھی کے ساتھ نکلا، ہمیں لڑائی کے بغیر ہی مال ملا اور مجھے کچھ اونٹنیاں ملیں۔ میں نے ان کو پانی پلایا، پھر میں اس کے پاس آیا، وہ نکلا اور اونٹ کے کجاوے پر بیٹھ گیا۔ پھر اس نے کہا: ان کو پانی پلاؤ آتے اور جاتے ہوئے۔ اور کہا کہ آپ کی اونٹنیاں بہترین ہیں، تو میں نے کہا: یہ وہ نفع ہے جس کی میں نے آپ کے ساتھ شرط لگائی تھی، یہ غنیمت آپ ہی کی ہے۔ تو اس نے کہا: اے میرے بھائی! اپنی اونٹنیاں لے جاؤ، ہم نے اس کے علاوہ حصہ کا ارادہ کیا تھا۔ شیخ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں «فَغَيْرَ سَهْمِكَ أَرَدْنَا» کا مطلب ہے کہ ہم اجرت میں حصہ نہیں چاہتے تھے بلکہ ہمارا مقصد تو اجر و ثواب میں شریک ہونا تھا۔