السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المسلم يتوقى في الحرب قتل أبيه، ولو قتله لم يكن به بأس باب: مسلمان دورانِ جنگ اپنے مشرک باپ کو قتل کرنے سے بچے گا البتہ اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَوْذَبٍ، قَالَ: " جَعَلَ أَبُو أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ يَنْصِبُ الْآلِهَةَ لِأَبِي عُبَيْدَةَ يَحِيدُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ الْجَرَّاحُ قَصَدَهُ أَبُو عُبَيْدَةَ فَقَتَلَهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ هَذِهِ الْآيَةَ حِينَ قَتَلَ أَبَاهُ: {لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ} [المجادلة: ٢٢] إِلَى آخِرِهَا. هَذَا مُنْقَطِعٌ.حضرت عبداللہ بن شوذب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بدر کے دن سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کا والد ان کے لیے معبود کھڑے کرتا تھا اور سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ان سے کنارہ کشی کرتے تھے۔ جب جراح نے اس عمل میں زیادتی کی تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے انھیں قتل کرنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ آیت اتاری جب سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ کو قتل کردیا: ﴿لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ﴾ [سورة المجادلة: 22] ”تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں آپ نہیں پائیں گے کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے۔“