السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المسلم يتوقى في الحرب قتل أبيه، ولو قتله لم يكن به بأس باب: مسلمان دورانِ جنگ اپنے مشرک باپ کو قتل کرنے سے بچے گا البتہ اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 17836
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ الْحَنَفِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي لَقِيتُ الْعَدُوَّ وَلَقِيتُ أَبِي فِيهِمْ فَسَمِعْتُ لَكَ مِنْهُ مَقَالَةً قَبِيحَةً، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى ⦗٤٧⦘ طَعَنْتُهُ بِالرُّمْحِ أَوْ حَتَّى قَتَلْتُهُ. فَسَكَتَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ، فَقَالَ: " إِنِّي لَقِيتُ أَبِي فَتَرَكْتُهُ وَأَحْبَبْتُ أَنْ يَلِيَهُ غَيْرِي، فَسَكَتَ عَنْهُ ". وَهَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ.حافظ ثناء اللہ
حضرت مالک بن عمیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں (اور انہوں نے جاہلیت کا دور پایا ہے) کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں دشمن سے ملا، ان میں میرا باپ بھی تھا، میں نے اس کے منہ سے آپ کے بارے میں ناپسندیدہ بات سنی، میں صبر نہیں کر سکا، میں نے نیزے سے اس پر وار کیا، نتیجتاً وہ قتل ہو گیا، نبی ﷺ اس پر خاموش رہے۔ پھر دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا: میں اپنے باپ سے ملا اور اس کو چھوڑ دیا اور میں نے چاہا کہ اس کو میرے علاوہ کوئی اور پہنچ جائے گا، نبی ﷺ پھر بھی خاموش رہے۔