السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرجل يكون له أبوان مسلمان أو أحدهما فلا يغزو إلا بإذن أهله باب: اس شخص کے بیان میں جس کے مسلمان والدین یا ان میں سے کوئی ایک حیات ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17830
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ. فَقَالَ: " ارْجِعْ فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے آیا ہوں اور اپنے والدین کو روتے ہوئے چھوڑ کر آیا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس جا اور ان کو خوش کر جس طرح ان کو رلایا ہے۔“