السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرجل يكون له أبوان مسلمان أو أحدهما فلا يغزو إلا بإذن أهله باب: اس شخص کے بیان میں جس کے مسلمان والدین یا ان میں سے کوئی ایک حیات ہو تو وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17829
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ⦗٤٥⦘ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ نَاعِمًا مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ حَدَّثَه، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ أَوِ الْجِهَادِ أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ. قَالَ: " فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟ ". قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا. قَالَ: " فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ؟ ". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: " فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی ﷺ کی طرف آیا اور کہنے لگا: میں ہجرت یا جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر کی امید کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں! دونوں زندہ ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید کرتا ہے؟“ اس نے کہا: ہاں! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی طرف لوٹ جا اور ان کے ساتھ اچھا سلوک کر۔“