السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: أصل فرض الجهاد باب: جہاد کی فرضیت کی بنیاد اور اصل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ إِمْلَاءً بِبَغْدَادَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَبْدِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَتُصَلِّيَ الْخَمْسَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ، وَتُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَمَّا اثْنَتَانِ فَلَا أُطِيقُهُمَا، أَمَّا الزَّكَاةُ فَمَا لِي إِلَّا عَشْرُ ذَوْدٍ هُنَّ رَسَلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهُمْ، وَأَمَّا الْجِهَادُ فَيَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ وَلَّى فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ فَأَخَافُ إِذَا حَضَرَنِي قِتَالٌ كَرِهْتُ الْمَوْتَ وَخَشَعَتْ نَفْسِي. قَالَ: فَقَبَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ حَرَّكَهَا، ثُمَّ قَالَ: " لَا صَدَقَةَ وَلَا جِهَادَ فَبِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ ". قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُبَايِعُكَ، فَبَايَعَنِي عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ.سیدنا ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اسلام پر بیعت کرنے کے لیے آیا تو آپ ﷺ نے مجھ پر مندرجہ ذیل باتوں کی شرط لگائی: ”اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور پانچ وقت کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان میں سے دو چیزوں کے کرنے کی میں طاقت نہیں رکھتا، یعنی (زکوٰۃ اور جہاد کی)۔ رہی زکوٰۃ تو میرے پاس صرف دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کا سرکل چلاتے ہیں، یعنی ہم ان کا دودھ استعمال کرتے ہیں اور سواری کرتے ہیں، اور رہا جہاد کا معاملہ تو اس کے بارے میں لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جو میدانِ جنگ سے بھاگے گا، وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے گا، تو میں ڈرتا ہوں کہ میں میدانِ قتال میں حاضر ہوں تو اس وقت میں موت کو ناپسند کروں اور اپنی جان کو پسند کر لوں اور اس پر حریص بن جاؤں۔ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ کو بند کر لیا اور پھر اسے ہلا کر فرمایا: ”نہ صدقہ اور نہ جہاد، تو تم جنت میں کیسے جا سکتے ہو؟“ ابن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کی بیعت کرتا ہوں، پھر آپ ﷺ نے مجھ سے ان تمام چیزوں پر بیعت لی۔