السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: أصل فرض الجهاد باب: جہاد کی فرضیت کی بنیاد اور اصل کا بیان۔
حدیث نمبر: 17795
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، ثنا صَفْوَانُ، ثنا أَبُو زِيَادٍ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ الْغَسَّانِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِقَبْرِي وَمَسْجِدِي قَدْ بَعَثْتُكَ إِلَى قَوْمٍ رَقِيقَةٍ قُلُوبُهُمْ يُقَاتِلُونَكَ عَلَى الْحَقِّ مَرَّتَيْنِ فَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مِنْهُمْ مَنْ عَصَاكَ، ثُمَّ يَغْدُونَ إِلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تُبَادِرَ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا وَالْوَلَدُ وَالِدَهُ وَالْأَخُ أَخَاهُ، فَانْزِلْ بَيْنَ الْحَيَّيْنِ السَّكُونِ وَالسَّكَاسِكِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے یمن کی طرف بھیجا اور فرمایا: ”شاید کہ تم میری قبر اور میری مسجد سے گزرو اور یقیناً میں نے تجھے ایسی قوم کی طرف بھیجا ہے جن کے دل بہت نرم ہیں اور وہ حق پر آپ کے ساتھ مل کر دو دفعہ قتال کریں گے۔ آپ اپنے فرمان بردار لوگوں سے مل کر نافرمانوں سے قتال کرنا۔ پھر وہ اسلام کی طرف چلیں گے حتیٰ کہ عورت اپنے شوہر سے جلدی کرے گی اور بیٹا اپنے باپ سے اور بھائی اپنے بھائی سے اور تم دو قبیلوں کے درمیان سکون و محبت پیدا کرنا۔“