السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: أصل فرض الجهاد باب: جہاد کی فرضیت کی بنیاد اور اصل کا بیان۔
حدیث نمبر: 17797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَاقُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شَيْبَانُ، ثنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تُحَدِّثُنِي بِعَمَلٍ أَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ أَنْبَأْتُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذِرْوَةِ سَنَامِهِ، أَمَّا رَأْسُ الْأَمْرِ فَالْإِسْلَامُ، مَنْ أَسْلَمَ سَلِمَ، وَأَمَّا عَمُودُهُ فَالصَّلَاةُ، وَأَمَّا ذِرْوَةُ سَنَامِهِ فَالْجِهَادُ ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ ان میں سے سر کون ہے اور ستون کون ہے اور کوہان کی بلندی کون سی چیز ہے۔“ پھر فرمایا: ”ان چیزوں کا سر اسلام ہے، جس نے اسلام قبول کیا وہ سلامت رہا اور ان چیزوں کا ستون نماز ہے اور کوہان کی چوٹی جہاد ہے۔“ پھر حدیث بیان کی۔