حدیث نمبر: 17794
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ} [البقرة: 216]، مَعَ مَا ذُكِرَ فِيهِ فَرْضُ الْجِهَادِ مِنْ سَائِرِ الْآيَاتِ فِي الْقُرْآنِ.
حافظ ثناء اللہ

اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَعَسَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَكُمْ﴾ ”تم پر لڑائی فرض کی گئی ہے حالانکہ وہ تمہیں ناگوار ہے، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔“ [سورة البقرة: 216]
اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی دیگر آیات بھی ہیں جن میں جہاد کی فرضیت کا ذکر کیا گیا ہے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ الْمُجَاشِعِيِّ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي خُطْبَتِهِ: " أَلَا إِنَّ رَبِّي أَوْ إِنَّ رَبِّي أَمَرَنِي أَنْ أَعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِي يَوْمِي هَذَا ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنَّمَا بَعَثْتُكَ لِأَبْتَلِيَكَ وَأَبْتَلِيَ بِكَ وَأَنْزَلْتُ عَلَيْكَ كِتَابًا لَا يَغْسِلُهُ الْمَاءُ تَقْرَؤُهُ نَائِمًا وَيَقْظَانَ، وَإِنَّ اللهَ أَمَرَنِي أَنْ أُحَرِّقَ قُرَيْشًا، فَقُلْتُ: " رَبِّ إِذًا يَثْلَغُوا رَأْسِي فَيَدَعُوهُ خُبْزَةً "، فَقَالَ: اسْتَخْرِجْهُمْ كَمَا أَخْرَجُوكَ وَاغْزُهُمْ نُغْزِكَ وَأَنْفِقْ فَنُنْفِقَ عَلَيْكَ، وَابْعَثْ جَيْشًا نَبْعَثْ خَمْسَةَ أَمْثَالِهِ، وَقَاتِلْ بِمَنْ أَطَاعَكَ مَنْ عَصَاكَ ". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ وَغَيْرِهِ عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت عیاض بن حمار مجاشعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے خطبہ میں فرمایا: ”سنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں وہ کچھ سکھاؤں جس سے تم ناواقف ہو، اس علم میں سے جو آج کے دن اس نے مجھے سکھایا ہے۔“ پھر حدیث بیان کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اے محمد! میں نے تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ میں تیری آزمائش کروں اور تیرے ذریعے سے (دوسروں) کی آزمائش کروں اور میں نے تجھ پر ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی بھی نہیں دھو سکتا یا مٹا سکتا، تم اسے سوتے اور جاگتے ہوئے پڑھو گے اور بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں قریش کو جلا دوں۔“ میں نے عرض کیا: ”اے میرے رب! تب تو وہ میرا سر کچل دیں گے اور اسے روٹی کی مانند کر دیں گے۔“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ان کو نکالو جیسے انہوں نے آپ کو نکالا ہے۔ آپ ان سے جہاد کیجیے ہم بھی آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ خرچ کریں ہم آپ پر خرچ کریں گے اور آپ ایک لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکر بھیجیں گے اور جو آپ کے مطیع و فرمانبردار ہیں ان کے ساتھ مل کر اپنے نافرمانوں سے قتال کریں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17794
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم ٢٨٦٥»