السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من كره أن يموت بالأرض التي هاجر منها باب: اس شخص کے بیان میں جس نے اس سرزمين پر مرنا ناپسند کیا جہاں سے اس نے ہجرت کی تھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْقَارِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَمْرٍو الْقَارِي، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِيضًا حَيْثُ خَرَجَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَلَمَّا قَدِمَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَيْهِ وَهُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِي مَالًا وَإِنِّي أُورَثُ كَلَالَةً فَأُوصِي بِمَالِي أَوْ أَتَصَدَّقُ بِهِ؟ قَالَ: " لَا ". قَالَ: فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ؟ قَالَ: " لَا ". قَالَ: فَأُوصِي بِشَطْرِهِ؟. قَالَ: " لَا ". قَالَ: فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَذَاكَ كَثِيرٌ ". قَالَ: أَيْ رَسُولَ اللهِ، أُصِيبُ بِالدَّارِ الَّتِي خَرَجْتُ مِنْهَا مُهَاجِرًا؟ قَالَ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَرْفَعَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ يُكَادَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيَنْتَفِعَ بِكَ آخَرُونَ، يَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِي إِنْ مَاتَ سَعْدٌ بَعْدِي فَهَهُنَا ادْفِنْهُ نَحْوَ طَرِيقِ الْمَدِينَةِ ". وَأَشَارَ بِيَدِهِ هَكَذَا. هَذِهِ الرِّوَايَةُ تُوَافِقُ رِوَايَةَ سُفْيَانَ فِي أَنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَ الْفَتْحِ، وَسَائِرُ الرُّوَاةِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالُوا فِيهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَاخْتُلِفَ فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَلَى ابْنِ خُثَيْمٍ فِي اسْمِ حَفَدَةِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِي.سیدنا عمرو قاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، اور جب آپ ﷺ حنین جانے لگے تو آپ ﷺ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو پیچھے چھوڑ دیا، اور جب آپ ﷺ جعرانہ سے عمرہ کرنے آئے تو آپ ﷺ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور وہ تکلیف سے نڈھال غشی کی حالت میں تھے۔ (افاقہ کے بعد) سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں مال دار آدمی ہوں اور میرا وارث بھی کوئی نہیں ہے (یعنی کلالہ)، کیا میں سارے مال کی وصیت کر جاؤں یا صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: کیا دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہوں نے پھر عرض کیا: کیا ایک تہائی مال کو صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! اور یہ بھی زیادہ ہے۔“ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایسی جگہ پر بیماری میں مبتلا ہوں جہاں سے میں نے ہجرت کی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند کرے گا اور تیرے ذریعے سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچائے گا اور بعض کو فائدہ۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو بن قاری! اگر میرے بعد سعد فوت ہو جائے تو اسے یہاں دفن کرنا۔“ آپ ﷺ نے مدینہ کے راستے کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا۔ یہ روایت بھی سفیان کی روایت کے موافق ہے جس میں ہے کہ یہ واقعہ عام الفتح میں پیش آیا، جبکہ باقی رواۃ زہری کے طریق سے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے سال میں پیش آیا، اور اسی طرح اس روایت میں ابن خیثم نام کے آدمی میں بھی اختلاف کیا گیا ہے جو عمرو بن قاری کے پوتے ہیں۔