السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من كره أن يموت بالأرض التي هاجر منها باب: اس شخص کے بیان میں جس نے اس سرزمين پر مرنا ناپسند کیا جہاں سے اس نے ہجرت کی تھی۔
حدیث نمبر: 17784
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ وَلَدِ سَعْدٍ كُلُّهُمْ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى سَعْدٍ يَعُودُهُ بِمَكَّةَ فَبَكَى، فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكَ؟ ". قَالَ: قَدْ خَشِيتُ أَنْ أَمُوتَ بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرْتُ مِنْهَا كَمَا مَاتَ سَعْدُ بْنُ خَوْلَةَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اللهُمَّ اشْفِ سَعْدًا " ثَلَاثَ مِرَارٍ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے تین بیٹے سب کے سب اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ مکہ میں ان کی عیادت کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے تو وہ رونے لگ گئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کون سی چیز رلا رہی ہے؟“ انہوں نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ میری موت اس زمین میں واقع ہو جس سے میں نے ہجرت کی ہے، جیسا کہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کی وفات اسی شہر میں ہوئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «اللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا، اللّٰهُمَّ اشْفِ سَعْدًا» ”اے اللہ! سعد کو شفا دے، اے اللہ! سعد کو شفا دے۔“ تین دفعہ آپ ﷺ نے دعا کی۔