السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: آخر وقت العشاء وفيه قولان أحدهما ثلث الليل، والآخر نصفه فمن قال: بالأول احتج بما باب: عشاء کے آخری وقت کا بیان، اور اس میں دو اقوال ہیں ایک تہائی رات اور دوسرا آدھی رات، پس جس نے پہلے قول کو اپنایا اس نے جس چیز سے استدلال کیا اس کا بیان
حدیث نمبر: 1758
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْخُرَاسَانِيِّ الْعَدْلُ ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى فَقَالَ: " إِنَّكُمْ ⦗٥٥٢⦘ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا كِبَرُ الْكَبِيرِ وَضَعْفُ الضَّعِيفِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَةِ - لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " هَكَذَا رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَغَيْرُهُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ وَخَالَفَهُمْ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز کو نصف رات کے قریب تک مؤخر کیا، پھر نکلے اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی اور فرمایا: ”تم نماز ہی میں رہے ہو جب تک تم اس کا انتظار کرتے رہے اور اگر مجھے بوڑھے کے بڑھاپے اور ضعیف کے ضعف کا خیال نہ ہوتا“ (راوی کہتا ہے: میرے خیال میں آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا) ”اور کام والے کے کام کا، تو میں ضرور اس نماز کو نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔“