حدیث نمبر: 1756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ثنا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ: هَلْ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ " قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَأَشَارَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى وَوَصَفَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کی انگوٹھی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ ﷺ نے عشا کو مؤخر کر دیا، آدھی رات یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر آپ ﷺ آئے اور فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں رہے ہو جب سے تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں آپ ﷺ کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1756
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»