السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الأشربة والحد فيها— کتاب الا شربة
باب: ما جاء في الكسر بالماء باب: (مشروب کی تیزی کو) پانی کے ذریعے توڑنے (کم کرنے) کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 17450
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْجُوزِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، أنبأ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: وَاللهِ " مَا قَبَضَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجْهَهُ عَنِ الْإِدَاوَةِ حِينَ ذَاقَهَا إِلَّا أَنَّهَا تَخَلَّلَتْ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِنَحْوٍ مِنْ رِوَايَةِ نَافِعٍ. وَيُذْكَرُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيذُ الَّذِي شَرِبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ تَخَلَّلَ، وَيُذْكَرُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا حَمُضَ عَلَيْهِمُ النَّبِيذُ كَسَرُوهُ بِالْمَاءِ.حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: «وَاللّٰهِ» ”اللہ کی قسم!“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چھاگل کو چکھتے وقت صرف اس لیے چہرہ سکیڑا تھا کہ وہ سرکہ بن چکی تھی، اور ابن مسیب رحمہ اللہ سے بھی ایسی ہی روایت آتی ہے، اور عتبہ بن فرقد سے منقول ہے کہ جو نبیذ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پی تھی وہ سرکہ بن چکی تھی، اور زید بن اسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نبیذ جب کھٹی ہو جاتی تو وہ اس کی سختی کو پانی سے توڑتے تھے۔